Hamare Kaptan Hum Ab Thora Sa Ghabra Lain

ہمارے کپتان… ہم اب تھوڑاساگھبرالیں

یہ کہاکرتے تھے کہ اوپر والا بندہ ٹھیک ہو تو پھر نیچے سارے خودبخودٹھیک ہوجاتے ہیں۔ وہ پہلے والے جن کویہ غلط ۔۔چوراورڈاکوکہاکرتے تھے وہ توآج نہیںپھریہ نیچے والے ٹھیک کیوں نہیں ہوتے۔۔؟ہم توکسی کوغلط۔۔چوریاڈاکونہیں کہتے لیکن انتہائی معذرت اورادب کے ساتھ ،،حضرات تبدیلی کرام،،سے یہ ایک سوال پوچھنے کی گستاخی ضرورکرتے ہیں کہ سابقین کی طرح کہیں یہ والابھی غلط تونہیں۔۔؟تقریباًڈھائی سال ہوگئے میرے کپتان کواوپرآئے ہوئے لیکن اس کے باوجودنہ نیچے والے ٹھیک ہوئے اورنہ ہی ملک وغریبوں کے حالات ذرہ بھی کوئی بدلے۔ جو حالات چور نوازشریف اورڈاکوزرداری کے دوریا زمانے میں تھے واللہ وہ توآج کی اس تباہی وسونامی سے ہزارنہیں لاکھ درجے بہتربہت بہترتھے۔۔ماناکہ نوازشریف اورآصف علی زرداری چورہوں گے ڈاکوہوں گے۔غلط بھی ہوں گے لیکن ان چوراورڈاکوئوں کی حکمرانی میں بھی غریبوں کے شب وروزکبھی اس طرح نہیں گزرے جس طرح آج گزررہے ہیں۔۔ چوروں اورڈاکوئوں کی حکمرانی میں جو غریب دو نہ سہی ایک وقت بھی جوپیٹ بھرکرکھاناکھایاکرتے تھے ریاست مدینہ میں آج ان غریبوں کے لئے بھی سفیدپوشی کابھرم رکھنامشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوکررہ گیاہے۔۔پیٹ کے جہنم کوبھرنے کیلئے جب سوداسلف کی غرض سے دس،پندرہ اوربیس ہزارتنخواہ لینے والے غریب اوردیہاڑی دارمزدوربازارکارخ کرتے ہیں تومارکیٹ میں آٹا۔۔چینی۔۔گھی ۔۔دال اورچاول کے بھائوپوچھ اورنرخ سن کران کے ہوش اڑجاتے ہیں۔۔میرے کپتان کی حکمرانی میں اس ملک کے غریب آج نہ زندہ ہیں اورنہ ہی مردہ۔۔گھروں اورجھونپڑیوں میں روٹی کے ایک ایک نوالے کیلئے بچوں کی چیخیں،آہیں وسسکیاں اورباہراشیائے خورونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کوسن کر غریب پھر نہ مرسکتاہے اورنہ جی سکتاہے۔۔حالات تویہ ہیں کہ ایمانداروں کی حکمرانی نے غریبوں سے جینے کی صلاحیت اورقوت تک چھین لی ہے لیکن مفت کے ٹکروں پرپلنے والے کپتان کے نادان کھلاڑی پھر بھی اس کھلی حقیقت کوماننے کیلئے تیار نہیں۔ ڈھائی سال سے ملک میں جاری بدترین مہنگائی۔۔ غربت ۔۔بیروزگاری اورتباہی کا ذکر اگر ان کے سامنے کیاجائے تویہ فوراًآپے سے باہر ہو کر ایک ہی راگ الاپناشروع کردیتے ہیں کہ کپتان بڑے ایماندارہیں۔۔نوازشریف کی طرح چور اور زرداری کی طرح ڈاکونہیں۔۔ہم نے کب کہاکہ کپتان چوریاڈاکوہیں۔۔لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ پچھلے ڈھائی سال سے ملک کے جوحالات




چل رہے ہیں ۔۔غریبوں کی جس طرح چمڑیاں اتاری جارہی ہیں۔۔لوگ جس طرح بھوک سے بلک بلک کرمرنے پرآرہے ہیں۔۔ذرہ بھی نہیں لگ رہاکہ اس ملک میں کسی ایمانداراورامانت دارکی کوئی حکمرانی ہے۔۔ اوپروالاٹھیک ہو پھر واقعی نا صرف نیچے والے بلکہ آس پاس والے بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔۔یقین نہ آئے توخلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق ؓ کی طرزحکمرانی کودیکھیں۔۔جن عظیم ہستیوں نے ریاست مدینہ کی بنیادرکھی تھی ان کی حکمرانی میں تو چرند۔۔ پرنداوردرندے بھی انسان بن جایاکرتے تھے آج تواس ملک میں اشرف المخلوقات کالقب پانے والے انسان بھی چرند۔۔ پرند اور درندوں سے کم نہیں۔۔ اس ملک میں آج نہ کسی کی عزت محفوظ ہے اورنہ ہی کسی کی جان ومال۔۔ کپتان ٹھیک ہوتے توکیاآج اس ملک اورعوام کی یہ حالت ہوتی۔۔؟ ویسے حدسے زیادہ ایمانداری اورسادگی بھی اچھی نہیں ہوتی۔۔ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں چوروں یاڈاکوئوں کاایک گروہ تھاجس میں پانچ چھ بندے تھے ۔۔ان کے علاقے میں ایک بندہ تھاجوسادگی کے ساتھ ہمارے کپتان کی طرح ایمانداری میں بھی بڑا مشہور تھا۔۔ یہ چور اور ڈاکو تو ہمیشہ انتہا درجے کے ہوشیار۔۔عقل مند اور استاد ہوا کرتے ہیں ۔۔یہ ہمارے سیاستدانوں کی طرح ایمانداروں کو چھوڑتے ہیں اورنہ ہی بے ایمانوں کو۔۔ مسجد ومدرسہ ان سے محفوظ ہوتاہے اورنہ ہی کسی سنیماکویہ بخشتے ہیں۔۔ خیر چوروں کے اس گروہ نے اس ایماندارشمارہونے والے بندے کواپناسربراہ بنادیا۔۔ کہتے ہیں کہ وہ بندہ کمرے میں بیٹھا رہتا تھا۔۔وہ خودکسی کے گھر اور درنہ چوری کے لئے جاتا تھا اور نہ ہی ڈکیتی کی کسی واردات میںشامل ہوتاتھالیکن اس کے کھلاڑی جب کوئی چوری کرتے یاکہیں کوئی ڈاکہ مارکرواپس آتے توپھرسب سے پہلے وہ چوری کے اس مال سے اپنے اس ایماندار قائد وسربراہ کاحصہ الگ کردیتے تھے۔۔ یوں چوروں اورڈاکوئوں کے اس ایماندار قائداورسربراہ کی ساری زندگی پھر اسی طرح کی ایمانداری پر گزری۔۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آج ہمارے کپتان کاحصہ بھی الگ کیاجاتاہوگایاہمارے کپتان بھی اس طرح کاکوئی حصہ لیتے ہوں گے لیکن اتناضرورکہتے ہیں کہ ہمارے ایماندارکپتان کی سربراہی اورنگرانی میں اس وقت اس ملک کے اندربھی اس چورگروہ کی طرح چوریاں اورڈکیتیاں زوروشورکے ساتھ ہورہی ہیں۔۔محض ڈھائی سال میں ادویات کی قیمتوں میں ڈبل اورٹرپل اضافہ کیا یہ غریبوں کے لئے ڈاکہ نہیں۔۔؟ مصنوعی بحران کے ذریعے آٹے کی قیمت سات سو سے پندرہ سواورچینی کی فی کلوقیمت پچپن روپے سے ایک سودس روپے تک پہنچاناکیایہ چوری نہیں ۔۔؟ بجلی اورگیس کی قیمتوں میں اضافوں پراضافہ کیایہ بھی ڈاکے کی ایک شکل وصورت نہیں۔۔؟ میرے کپتان آپ بلاکسی شک وشبہ کے ایمانداربہت بڑے ایماندارہوں گے لیکن اس وقت آپ کی ریاست میں مخلوق خداکی جوحالت ہے وہ ہرگزہرگزآپ کے شایان شان نہیں۔۔اس ملک کے عوام نے کبھی خوابوں میں بھی یہ نہیں سوچاتھاکہ ورلڈکپ فتح کرنے والے عمران خان کی حکمرانی اورنگرانی میں اس طرح انہیں لوٹاجائے گا۔۔ میرے کپتان ملک اورعوام کے آج جوحالات ہیں وہ انتہائی دردناک ۔۔غمناک اورشرمناک ہے۔۔ واللہ تحریک انصاف کے کھلاڑیوں کی طرح ہمیں بھی آپ کی ایمانداری پرکوئی شک نہیں ۔ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ آپ کبھی تاریخ میں کسی چور یا ڈاکو گروہ کے کوئی سربراہ اور قائد شمار ہوں۔۔ لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ پچھلے ڈھائی سال سے اس ملک کے اندرجوکچھ ہو رہاہے۔۔ جو حالات چل رہے ہیں اور آٹا۔۔ چینی۔۔ گھی۔۔ دال ۔۔بجلی اورگیس بلوں کے ذریعے جو لوٹ مار ہو رہی ہے وہ کسی چور اور ڈاکوگروہ کی خطرناک قسم کی وارداتوں سے ہرگزمختلف نہیں۔۔ لوگ اس وقت آپ کے کھلاڑیوں سے سوال کررہے ہیں کہ آپ کے کپتان اگرواقعی ایماندار اور امانت دار ہیں تو پھر ان کی سربراہی۔۔ نگرانی اورحکمرانی میں اس ملک کے اندریہ لوٹ مارکیوں ہیں۔۔؟میرے کپتان اقتدارکی کرسی پربیٹھنے والے ہرشخص کوپھرسب کچھ ٹھیک نظرآتاہے آپ بھی بنی گالہ میں عیش وعشرت کر کے کہیں یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ سارے 22کروڑ عوام عیش وعشرت کی زندگی گزاررہے ہیں ۔۔بڑھتی مہنگائی ۔۔غربت اوربیروزگاری کے سرکاری اعدادو شمار کوبھی آپ اپوزیشن وسیاسی دشمنوںکی چال قرار دے رہے ہیں لیکن میرے کپتان حقیقت میں ایسا بالکل بھی نہیں۔۔ نہ مہنگائی اورغربت بارے اعدادوشمارکسی کی کوئی چال ہے اورنہ ہی 22کروڑ عوام آپ کی طرح کوئی مزے کی زندگی گزاررہے ہیں ۔۔ آپ کی تاریخی حکمرانی نے تو اس ملک کے اچھے بھلوں کوبھی ایک ایک وقت کی روٹی کامحتاج بنا دیاہے۔۔اس ملک میںکل تک جوپیٹ بھر کر کھاناکھایاکرتے تھے آپ کی حکمرانی میں آج ان کوبھی ایک وقت کی روٹی میسرنہیں۔۔آپ کے اردگردشہدکی مکھیوں کی طرح بھن بھن کرنے والے یہ وزیر اور مشیرمالش اورپالش میں نہ جانے آپ کوکونسے قصے اورکہاں کی کہانیاں سناتے ہیں لیکن میرے کپتان اصل قصہ اورسچی کہانی صرف اورصرف

Leave a Reply